12 جون 2026 - 17:36
مآخذ: ابنا
جارجیا میں ایرانی سفیر کا انتباہ: دشمن کے فوجی اڈے ہمارے لیے جائز ہدف ہیں

جارجیا میں ایران کے سفیر سید علی موجانی نے کہا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین یا فوجی اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے گئے تو ایران انہیں اپنے دفاع کے حق کے تحت جائز فوجی اہداف تصور کرے گا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جارجیا میں ایران کے سفیر سید علی موجانی نے کہا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین یا فوجی اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے گئے تو ایران انہیں اپنے دفاع کے حق کے تحت جائز فوجی اہداف تصور کرے گا۔

تفلیس میں اپنی تعیناتی کے 180 دن مکمل ہونے پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے ایران اور جارجیا کے تاریخی تعلقات، علاقائی صورتحال اور ایران کی دفاعی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ جارجیا صرف ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیبی اور تاریخی اکائی ہے جس کے ایران کے ساتھ ہزاروں سال پرانے روابط موجود ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور قونصلر تعاون مسلسل جاری رہا ہے۔

سفیر نے حالیہ علاقائی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض ممالک کی فضائی اور زمینی حدود ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل، کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اس حوالے سے اپنے مؤقف اور معلومات خطے کے مختلف ممالک تک سفارتی ذرائع سے پہنچائی ہیں۔

انہوں نے بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں ہونے والے واقعات کو دوہرے معیار کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور بعض حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کی طاقت اس کے عوام کی حمایت سے حاصل ہوتی ہے اور ملک نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف دباؤ، پابندیوں اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود اپنی خودمختاری اور استحکام برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات معمول کے مطابق کام کرتی رہیں اور ملک کی اقتصادی و سماجی سرگرمیوں میں کوئی بڑا تعطل پیدا نہیں ہوا۔

اپنے خطاب کے اہم حصے میں سفیر نے خبردار کیا کہ ایران اپنی سرزمین اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران کے مخالف عناصر یا فوجی قوتوں کو سہولت فراہم کریں گے، ان کی سرزمین پر موجود متعلقہ فوجی تنصیبات ایران کے لیے ممکنہ فوجی اہداف بن سکتی ہیں۔

انہوں نے اختتام پر کہا کہ ایران کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف جارحیت کا خواہاں نہیں اور اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد باہمی احترام، حسنِ ہمسائیگی اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha